FAMOUS URDU NOVELS: Sibgha Ahmad

HERE YOU CAN SEARCH FOR THE NOVELS LINKS

Showing posts with label Sibgha Ahmad. Show all posts
Showing posts with label Sibgha Ahmad. Show all posts

Tuesday, September 4, 2018

Sirat e ishq novel by Sibgha Ahmed pdf




Sirat e ishq novel by Sibgha Ahmed pdf

Sirat e ishq novel by Sibgha Ahmed


Download free online Urdu books pdf, Free online reading

social, romantic, Urdu novel

Sirat e ishq novel pdf by Sibgha Ahmed

complete in pdf.

Click the links below to download in pdf or read online.

DOWNLOAD LINK (Mediafire)



OR


OR


ONLINE READING LINK



If you have any problem in downloading plz visit this link below






Monday, August 20, 2018

Behaknay se zara pehly Article by Sibgha Ahmad




Behaknay se zara pehly Article by Sibgha Ahmad

بہکنے سے زرا پہلے
تحریر: صبغہ احمد
انسان کا دکھ کبھی کبھی اتنا رقت آمیز ہو جاتا ہے کہ اس دکھ کو آنسوؤں سے لکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔ اپنی بےوقوفی اور دوسرے کی بے حسی اور اس کے درمیان ناانصافی اتنی تلخ ہو کر ابھرتی ہے کہ خون کے آنسو رو کر بھی اس کا ازالہ نہ ممکن ہو جاتا ہے۔ کرب اور اذیت کا صحرا پار کرتے ہوئے بعض دفعہ جب پلٹ کر اس ایک چہرے کی طرف دیکھتی ہوں اور اس پر بے حسی و بے رحمی کے آثار ہنوز پاتی ہوں تو صحرا کی تپتی ہوئی ریت میں لپٹ کو جان دے دینے کو جی چاہتا ہے شاید اس طرح اپنی غلطی کا ازالہ کر سکوں، پھر سوچتی ہوں نہیں۔۔ اللہ برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ وہ جانتا ہے اس کا بندہ اس قابل ہی نہیں کہ اس قدر اذیت سہہ پائے۔ وہ انسان سے بڑھ کر اپنے بندے سے محبت کرتا ہے پھر پتا نہیں مجھے رب کی محبت نظر کیوں نہیں آئی شاید میں اس قابل ہی نہیں کہ اس محبت کو سمجھ پاتی۔ اگر میں جان جاتی کہ میرا رب کتنا عظیم ہے تو میں کبھی صراط مستقیم سے دور نہ ہوتی۔ میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوں کہ اس نے نے بہکنے سے زرا پہلے میری دستگیری کی۔


*************




Wednesday, August 15, 2018

Baba e qom ka pakistan Article by Sibgha Ahmad




Baba e qom ka pakistan Article by Sibgha Ahmad

بابائے قوم کا پاکستان
تحریر: صبغہ احمد
پاکستان کی ابتدائی مشکلات پر غور کیا جائے تو علاقوں کی غیر منصفانہ تقسیم سب سے
زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ بیشتر مسلم اکثریتی علاقے جن میں فیروز پور، ضلع گورداس پور کی تحصیل زیرہ، حیدرآباد دکن اور کشمیر جیسی دیگر بہت سی مسلم ریاستیں شامل تھیں، انہیں بھارت کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس کے علاوہ آرڈیننس فیکٹریوں اور فوجی اثاثوں کی غیر منصفانہ تقسیم، پانی کی روک تھام اور دیگر بہت سی مشکلات پاکستان کے استحصال کا باعث بنیں۔ بعد ازاں مہاجرین کی آبادکاری ان کی خوراک، رہائش و ادویات کا بندوبست بھی ایک کڑی آزمائش تھا۔ جس کے حصول کے لیے ہمارے محنتِ شاقہ سے کام کرنے والے رہنماؤں اور فوجی دستوں نے کارہائے نمایاں سرانجام دیا۔ یہ پاک وطن بلاشبہ ہمارے آبا کی بے دریغ قربانیوں کا ثمر ہے جس کے لیے جوانوں نے اپنی جوانی لٹائی۔ عورتوں نے اپنے باپ، بھائی اور شوہر گنوائے لیکن ان سب میں سب سے اہم ان کی وہ محنت اور لگن جسے وہ لے کر چلے اور جس کے بل پر وہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر وطنِ عزیز کے حصول کے لیے سرتوڑ کوششیں کرتے رہے۔ آج جب یہ ملک ہمارے بزرگوں کی ان تھک محنت کے عوض ہمارا اپنا ہے تو ہم اسے امن کا گہوارہ بنانے کی بجائے دہشت گردی، جنگ، چور بازاری، بھتہ خوری اور رشوت ستانی جیسی بیماریوں کا گڑھ بنائے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں جگہ جگہ سڑکوں پر کچرے کا ڈھیر، گاڑیوں کا دھواں، پولیتھین بیگز کا استمال اور درختوں کا کٹاؤ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ معصوم جانوروں کے مسکن کو بھی تباہ کر رہا ہے۔ ملکی ترقی کی بات کریں تو سب سے اہم مسئلہ ہماری قومی زبان کا ہے جسے ہم نے خود ہی پستی میں دھکیل دیا ہے۔ دوسرے ممالک کی زبانوں کو اردو پر ترجیح دینا ایک المیہ ہے جو کہ ان ممالک میں ہماری پہچان کو مانند کر رہا ہے۔ ہمیں چھوٹے موٹے کام کر کے رزقِ حلال کمانے میں شرم آتی لیکن ایک بڑے ادارے میں کام کرتے ہوئے حلال و حرام کا فرق بھول جانے پر نہ تو ہمیں شرم آتی ہے نہ ہم غیر ملک سے ادھار مانگتے ہوئے سبکی محسوس کرتے ہیں۔ پاک وطن کی ترقی و کامرانی کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ہم اردو زبان کو فروغ دیں۔ حلال رزق کی اہمیت کو سمجھیں۔ اپنے ملک کو صاف ستھرا رکھیں۔ پانی و بجلی کا بےدریغ استعمال نہ کریں۔ جن وسائل کی ہمارے ملک میں کمی ہے انہیں کفایت شعاری سے برتیں تاکہ ہمیں دوسروں کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں۔ یہ ہمیں بہت چھوٹے پیمانے سے شروع کرنا ہوگا۔ ایک چپڑاسی اور کلرک سے لے کر ایک جج اور بیوروکریٹ تک ہر ایک کو اس ملک کی خوشحالی کے لیے کام کرنا چاہیئے۔ پاکستان کے حصول کا مقصد ایک آزاد وطن کا حصول تھا جہاں ہم اسلامی تعلیمات کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں لہٰذا ہمیں اسے بابائے قوم کے خواہش کردہ وطن کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا ہے کہ اس آشیانہ(ء) محبت کو ہماری ضرورت ہے۔ اس پر جو کبھی آنچ آئے تو اس کی مٹی سے محبت کی گواہی دیتے ہوئے اپنا خون اس میں شامل کر دینا اور تن، من اور دھن سے اس کی حفاظت کرنا ہم پر فرض ہے۔ یہ اس پاک سر زمین سے محبت کا تقاضہ جس نے ہمیں اپنی گود میں پالا ہے۔
دوستوں آؤ کہ تجدیدِ وفا کا دن ہے
ساعتِ عہدِ محبت کو حنا رنگ کریں
خونِ دل غازہ(ء) رخسارِ وطن ہو جائے.
اپنے اشکوں کو ستاروں سے ہم آہنگ کریں.


****************




Tuesday, July 24, 2018

Do munh wale log Article by Sibgha Ahmad




Do munh wale log Article by Sibgha Ahmad

دو منہ والے لوگ
تحریر: صبغہ احمد
 کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے میں پوری دنیا کو آگ لگا دوں۔ مجھے نفرت ہے ان دو منہ والوں سے، بالکل دو منہ والے سانپ کی طرح دو منہ والے دوغلے لوگ جو اس معاشرے میں اپنا زہر پھیلا رہے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی اس زہر کی لپیٹ میں ہر ایک آ رہا ہے۔ بچہ، بوڑھا، جوان۔ مجھے نفرت ہے معیار کو پرکھنے والے ان لوگوں سے جن کی آنکھیں اور سوچ اس سے آگے بڑھ  ہی نہیں پا رہیں کہ معیاری چیز کے حقدار صرف وہ ہیں اور باقی ماندہ غیر معیاری و غیر ضروری چیز۔۔۔۔ وہ جو اپنے گھر مالی، خانساماں یا پھر چوکیدار ہیں ان کو دے دیں گے۔ وہ خوش ہو جائیں گے۔ تف ہے تم پر اے آدم زاد! تم وہ چیز اپنے بھائی کو دینا چاہتے ہو جو تم پسند نہیں کرتے یا جو تمہارے کام کی نہیں۔ میرے اندر نفرت ہے ان لوگوں کے لیے جو سگنلز پر بڑی بڑی گاڑیاں لے کر ان کے کھلنے کا انتظار کرتے ہیں او شیشے کے پار موجود اس چھوٹے لڑکے کا ہاتھ جھٹک دیتے ہیں۔۔۔ نہیں وہ بھیک نہیں مانگ رہا تھا وہ تو پھول بیچ کر اپنے گھر میں لگی قفس کی آگ بجھانا چاہتا تھا۔ تو کیا ہوا سگنل پر ایسے بہت سے آتے ہیں۔ جی ہمیں ضرورت ہی نہیں پھول کی تو کیوں خریدیں۔ وہ لڑکا دیکھتا رہ گیا۔ ایک اور آس ٹوٹ گئی۔ ایک اور گلاب بک جانے کی آس۔ سگنل کھل گیا، اس کے قدم منجمد رہے پیچھے سے آنے والی گاڑی نے اس کی ٹانگیں توڑ دیں۔ ختم بات۔ تو کیا ہوا بہت سے لوگ معذور ہیں لیکن اپنے خاندان کا پیٹ بھی پال رہے ہیں۔ جی تو آپ رہے وہی دو منہ والے بے حس۔ گلی کے نکڑ پر کھڑا وہ دس سالہ بچہ جو ٹافیاں اور چاکلیٹ بیچ رہا ہے لیکن ہم کیوں خریدیں ہماری کوئی عمر ہے ٹافیاں کھانے کی نہ ہمارے گھر کوئی چھوٹا ببچہ ہے۔ ارے تمہیں ضرورت نہیں، اسے تو ہے ضرورت تمہارے خریدنے کی۔ یہی تو اس کی جمع پونجی ہے۔ لیکن نہیں تم تو ہو وہ دو منہ والے بے حس آدم۔ وہ کبیر بابا کو چھٹی چاہیئے۔ کون وہ خانساماں۔ جی، کہہ رہا تھا اس کی بیوی کی طبعت ٹھیک نہیں۔ تو پھر۔ پھر کیا پرسوں مہمان آ رہے ہیں میں نے چھٹی نہیں دی۔ ٹھیک کیا۔ ہاں دو دن بعد ایک ہفتے کی چھٹی دے دوں گی۔ اور ہفتے کی چھٹی کے تیسرے دن ہی کبیر بابا واپس۔ ارے کیا ہوا بابا میں نے پورے ہفتے کی چھٹی دی تھی۔ بیگم صاحبہ! میری بیوی مر گئی۔ لو جی! تو بیگم صاحبہ کا کیا قصور، وہ تو احسان کر کے بری الذمہ۔ جی اور سنیے! کل رات وہ بہت خوش تھی۔ کیوں! اس نے مجھ سے محبت کا دعویٰ کیا ہے۔ تو آج کیا ہوا۔ میں نے اسے کسی اور لڑکی کے ساتھ دیکھا۔ ارے چھوڑو بھی! وہ مرد ہے چار محبتیں کرے گا۔ اس کے انتظار پہ تف۔ دو منہ والے انسان بڑھتے چلے گئے۔ آپ کہیں گے میں بہت منفی سوچ سوچنے لگی ہوں ہاں تو ٹھیک ہے منفی ہی سہی تم غور تو کرو۔ تم سگنل پر موجود لڑکے سے گلاب مت خریدو۔ تم ٹافی مت خریدو۔ تم اس کی مکراہٹ خریدو۔ تم کہو گے بی بی! بولنا آسان ہے تم خود کرو تو جانو۔ تو ٹھیک! میں اپنے تئیں کروں گی جو مجھ سے بن پڑے گا اور جو میں کر سکوں گی۔ لیکن سنو! "قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے"۔ میں پہلا قطرہ بنتی ہوں، تم آ کر  دریا بن جانا۔ختم کرو یہ دو منہ اور سونے کو کندن بننے دو۔
********************




Wednesday, July 18, 2018

Soch ki tabdeeli article by Sibgha Ahmad




Soch ki tabdeeli Article by Sibgha Ahmad

سوچ کی تبدیلی
تحریر: صبغہ احمد
جی تو بات ہو رہی ہے تبدیلی کی جو جلد یا بدیر لیکن بلاشبہ ہمارے پیارے وطن میں آنے ہی والی ہے جس سے حال ہی میں بہت سے لوگ سیاسی و قانونی اور ظاہری طور پر محبت و عقیدت  کے قصیدے پڑھنے لگے ہیں، شاید اتنی ہی محبت جو بوقتِ ضرورت ان کام آ سکے۔ غیر یقینی طور پر یہ آرٹیکل سب کو منفی خیالات کا اثر بھی لگ سکتا ہے تاہم اسے لکھنے میں مجھے کوئی تامل نہیں۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ میری ایک ناقص رائے بھی ہو سکتی ہے۔ بہرحال ہماری عوام کے پچاس فیصد سے زائد لوگ جو کہ تبدیلی کے خواہاں ہیں موجودہ صورتِ حال سے انتہائی مسرور اور خوش آئند نظر آتے ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد اس ملک کی نوجوان نسل کی ہے جنہیں ہم اس ملک کا سرمایہ گردانتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ نو وارد لیڈروں کو ووٹ دے کر وہ ملک کی سیاسی، معاشی و معاشرتی اور شاید قانونی حالت میں تبدیلی لا سکتے ہیں، بہت حد تک ممکن ہے کہ ان کا خیال آنے والے وقتوں میں ان کے صحیح فیصلے کی تصدیق بھی کرے۔ لیکن اختلاف یہاں اس بات سے نہیں کہ وہ کس سیاسی لیڈر کو بادشاہ کی مسند پر بٹھاتے ہیں بلکہ اختلاف یہاں ان کی سرگرمیوں سے ہے۔ زیرِغور بات یہ ہے کہ آدھے سے زیادہ ینگزٹرز جو مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیرِتعلیم ہیں،ان میں منعقد ہونے والے کانسرٹس کا حصہ  بنتے ہیں بلکہ اس کمپین کے اہم رکن کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ یہی نہیں اس کے علاوہ پیسے اور اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے سفارشات کروانا، زائد نمبر لگوانا وغیرہ بھی ان کے کھاتے میں شامل ہے اور یہ ہیں وہ نوجوان جو تبدیلی چاہتے ہیں۔  ایسا ملک جہاں لطف و سرور کی محفل پر دس بارہ لاکھ روپے باآسانی خرچ کیے جائیں جو کہ عام طور پر نعت و میلاد کی محفل پر بے دریغ خرچ نہیں کیے جاتے اور ایسا ملک جس کی بنیاد ہی اسلام کے اصولوں پر رکھی گئی ہے اور اس ملک میں ایک گانا بجانے والے کو مسجد  کے امام اور سکول کے اساتذہ سے زیادہ آمدن، زیادہ مراعات اور زیادہ اہمیت حاصل ہو وہاں تبدیلی لانا کسی کرامت سے کم نہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے لیکن اسی ملک میں پل بڑھ کر اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والے جوان جو کسی بنک میں منیجر، کسی کورٹ میں جج و وکیل یا کسی انڈسٹری کے سپروائزر ہیں اور انہیں  کی طرح بہت سے دوسرے اعلیٰ اداروں میں کام کرنے والے جن کو محض تبدیلی سے سروکار ہے جو کہ ان کے خیال میں ان کے کرپٹ دھندوں کو روکنے اور حلال و حرام کی تمیز کرنے سے نہیں بلکہ لیڈر کے تبدیل کرنے سے آئے گی۔ باقی ماندہ جوان و نوجوان جو کہ نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اپنے تئیں ملک  میں گندگی کا ڈھیر اکٹھا کرنے، ناپ تول میں کمی، دودھ میں ملاوٹ جیسی دیگر  بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور اس سب کے ساتھ ساتھ ان کا اہم اور پلس پوائنٹ یہ ہے کہ وہ بھی تبدیلی کے منتظر ہیں۔ غرض یہ کہ جس کا جتنا ہاتھ پڑتا ہے وہ اپنی ہمتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے مال اور کھال کھینچنےمیں مصروف ہے۔ تبدیلی محض ایک لفظ ہی نہیں یہ زمانے کا وہ  پراسس ہے جو صدیوں پر محیط ہے جو کہ مثبت اور منفی دونوں صورتوں میں آہستہ آہستہ ہم عوام کی سوچ، لگن اورملک کے سربراہان کی محنت سے ہی وقوع پذیر ہوسکتا ہے۔ تو کیا سوچ کی تبدیلی کے بغیر صرف ایک سیاسی لیڈر کی تبدیلی اس ملک کے حالات بدل سکتی ہے۔ سوچئے گا ضرور!
*****************




Tuesday, June 12, 2018

Eidi afsana by Sibgha Ahmad pdf




Free download Eidi afsana by Sibgha Ahmad pdf

Eidi afsana by Sibgha Ahmad


Download free online Urdu books pdf, Free online reading

social, romantic, Urdu novel

Eidi Urdu afsana by Sibgha Ahmad

complete in pdf.

Click the links below to download in pdf or read online.

DOWNLOAD LINK (Mediafire)



OR


OR


ONLINE READING LINK



If you have any problem in downloading plz visit this link below






Saturday, June 2, 2018

Zindagi kya hai Article by Sibgha Ahmad




Zindagi kya hai Article by Sibgha Ahmad





Friday, June 1, 2018

Maa Article by Sibgha Ahmad





Maa Article by Sibgha Ahmad






Thursday, May 31, 2018

Mohabbat ki qeemat Article by Sibgha Ahmad




Mohabbat ki qeemat Article by Sibgha Ahmad

"محبت کی قیمت"
تحریر: "صبغہ احمد"
        شام کا ڈھلتا سورج زرد و نارنجی شعائیں بکھیر رہا تھا۔ زمین پر موجود ہر ذی نفس اپنا اپنا ذریعہ معاش سمیٹتے ہوئے نمونہ عجلت بنا ہوا تھا۔ گویا سب کو اپنی اپنی پناگاہوں میں پہنچنے کی جلدی تھی۔ ایسے میں، میں اور وہ نہیں۔۔۔۔۔۔وہ اور میں تصحیح الفاظ، محبوب کو ہمیشہ آگے رکھنا چاہیئے۔ ہاں! تو وہ اور میں سمندر کنارے۔۔۔۔۔۔نہیں ایسا کوئی منظر نہیں تھا، ضروری نہیں کہ سمندر کنارے یا کسی پارک کے گوشے میں ہی محبوب کو خراج عقیدت پیش کیا جائے۔
          سڑک کنارے ہاتھوں میں کارنیٹو تھامے ہم محو گفتگو چلتے جا رہے تھے۔ گاہے بگاہے میں میں منہ میں آئسکریم کا ذائقہ گھول لیتی۔ پھر اچانک اس نے مجھ سے ایک سوال پوچھ لیا۔ اس نے کہا نینا! وہ مجھے نینا ہی کہتا تھا کہ اس کی نظریں  میری کاجل سے لبالب بھری آنکھوں پر مر مٹی تھیں۔
            اس نے کہا! نینا۔۔۔۔۔ تم جانتی ہو محبت کی قیمت کیا ہے؟۔ میں نے بھی عام لڑکیوں کی طرح ڈائیلاگ مارنے کو فوقیت دی۔ میں نے کہا شجاع، تم مجھ سے محبت کی قیمت پوچھتے ہو!۔۔۔۔۔۔محبت تو بے مول ہوتی ہے۔ وہ ذرا کی ذرا میری آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا پھر پلکیں جھکا لیں، پھر میں نے اس کے ہونٹوں کو ہولتے ہوئے دیکھا۔ وہ مجھ سے آہستہ آہستہ کچھ کہہ رہا تھا۔ نینا میں تمہیں محبت کی قیمت بتاتا ہوں۔ محبت کی قیمت "اخلاص" ہے۔ اخلاص جانتی ہو کسے کہتے ہیں؟۔۔۔۔۔ "خلوص" کو، اور اس کا شجرہ "خالص" سے جا ملتا ہے، اور خالص کہتے ہیں سچے اور کھرے کو۔ محبت میں اگر خلوص نہ ہو تو وہ مردہ ہو جاتی ہے۔ بالکل ویسے، جیسے ایک انسان بغیر روح کے مردہ ہو جاتا ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہیں رہتی، کوئی وقعت نہیں۔ جیسے کرہ ارض پر اس کی گنجائش ہی باقی نہ رہی ہو۔ محبت کا بھی اخلاص کے ساتھ ویسا ہی تعلق ہے جیسا جسم کا روح سے۔ اگر اخلاص نکال دو تو محبت بے جان۔۔۔۔ اور ایسی محبت عرش بریں پر اپنا مقام کھو دیتی ہے۔ ایسی محبت فطری خوشی تو دے سکتی ہے لیکن دلی سکون نہیں۔ میں جو یک ٹک اسے ہی دیکھ رہی تھی، اس کے ہلانے پر چونک گئی۔ وہ اب میرا ہاتھ ہلا کر مجھے پگھلتی ہوئی آئسکریم کا متوجہ کر رہا تھا۔ نینا تمہاری آئسکریم پگھل گئی ساری، آٶ نئی لے دوں۔ بات کب کی ختم ہو چکی تھی اور میں بس اس کے محبت آمیز اخلاص کی تہہ میں پرت در پرت اترتی چلی گئی۔
******************
The End




LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...