FAMOUS URDU NOVELS: Maryam Gul

HERE YOU CAN SEARCH FOR THE NOVELS LINKS

Showing posts with label Maryam Gul. Show all posts
Showing posts with label Maryam Gul. Show all posts

Sunday, July 30, 2017

Ghaflat novel by Maryam Gul pdf




Ghaflat novel by maryam Gul pdf


Ghaflat novel by Maryam Gul


Download free online Urdu books, free online reading 

social / romantic Urdu novel 

Ghaflat novel by Maryam Gul

complete in pdf.

Click the link below to download.





Sunday, April 30, 2017

Manhoos novel by Maryam Gul pdf




free download Manhoos novel by Maryam Gul pdf


Manhoos novel by Maryam Gul


Download free online Urdu books, free online reading 

social / romantic Urdu novel 

Manhoos Urdu novel by Maryam Gul

complete in pdf.

Click the link below to download.

If you have any problem to download plz read this link

How To Download




Monday, April 10, 2017

Dor e jadeed novel by Maryam Gul pdf






Dor e jadeed novel by Maryam Gul


Dor e jadeed novel by Maryam Gul


Download free online Urdu books, free online reading 

social / romantic Urdu novel 

Dor e jadeed Urdu novel by Maryam Gul

complete in pdf.

Click the link below to download.





Tuesday, March 21, 2017

Jannat novel by Maryam Gul pdf




Jannat novel by Maryam Gul


Jannat novel by Maryam Gul


Download free online Urdu books, free online reading 

social / romantic Urdu novel 

Jannat Urdu novel by Maryam Gul

complete in pdf.

Click the link below to download.

If you have any problem to download plz read this link

How To Download




Tuesday, March 14, 2017

Kahani chor by Maryam Gul







لکھنے لکھا نے کا شو ق اسے ہمیشہ سے تھا۔کتا بو ں سے ا چھی تحر یر یں محفوظ کر لینا اس کا پسند یدہ مشغلہ تھا۔
پھر ایک دن آیا ،جب اس نے خو د تحر یر کرنا شروع کیا۔
مختلف تحر یر یں لکھنا اور ورق ورق سیاہی بھر نا۔ 
اکثر بہت کچھ ہوتا ہے۔جو آپ چاہ کر بھی کے کہہ نہیں پاتے۔اظہا ر کے لیے لفظ بھی ہو تے ہیں۔مگر سننے والا کو ئی نہیں ہوتا۔پھر انسان قلم قرطاس کا سہارالیتا ہے۔
سکھ دکھ، خوشی غمی ہر احساس رنگن ورقوں پہ اْ تانے لگتا ہے۔ورقوں پہ اْ تر کے تحر یریں انسا ن کو جیسے ہلکا پھلکا کر دیتی ہیں۔ ایسا لگتاہے جیسے کند ھوں سے منوں بوجھ اْتر گیا ہو۔
وہ روز کیلنڈر دیکھتی ۔دن جیسے گن گن کے گزر رہے تھے۔دل آس اور اْمید کی ڈگر پہ سفر کرتا ر ہتا۔کبھی خوش فہم ہو جاتا اورکبھی ناکامی کا سوچ کے بجھ سا جاتا۔
کتنے احباب تھے ۔جن کو اْس کی طرح انتظار لگا تھا۔
پھر دن رات کا انتطار ختم ہوا۔
بازار سے خریدا ہوا رسالہ اْس کے ہاتھ میں تھا۔دل زور زور سے ڈھرک رہا تھا۔جیسے ابھی با ہر آ جائے گا۔
ڈر اور خوف کے ملے جلے جذبے کے ساتھ تقریبا سارے ہی رسالے کی ورق گردانی کر ڈالی۔پھروہ تحریر آ نکھو ں کے سامنے سے گزری۔
تحریر اْسکے سامنے تھی۔
وہ جسےتحریر کرتے اْس نے لفظوں میں اپنے احسا سوں کا رس گُھلا تھا۔
وہ اْس کی تحریر تھی،جس کا ہر لفظ اْسکا تھا۔
وہ پھٹی پھٹی نظروں سے ہر لفظ پڑھ رہی تھی۔
کہانی اْس کی تھی،لفظ بھی اْ س کے تھے۔کہانی کا نام بھی اْسی کا دیا ہوا تھا۔
مگر
 مضنفہ کے نام کی جگہ کسی اور کا نام چمک رہا تھا۔
شدید غم ا ورغصے کی وجہ سے گرم پانی کا چشمہ اْس کی آنکھوں سے بہنے لگا۔
رسالہ اْس کے ہاتھوں سے چھوٹا اور زمین پر جا پڑا۔
اور گھٹنوں کے بل بیٹھی وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی ۔
اور روتی ہی چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔






Monday, March 13, 2017

Kamal e mohabbat by Maryam Gul




Kamal e mohabbat by Maryam Gul




مئی کے اوائل کے دن تھے.سورج کی تپش سوا نیزے پر تھی۔عامل بابا کے ڈیرے پہ جہاں ہر وقت آس مندوں اور مریدوں کا تانتا بندھا رہتا تھا.وہاں آج اکا دْکا لوگ نظرآ رہے تھے.عامل بابا کا خاص خدمت گزا ر شیدا مٹی کے کونڈے میں ہرے رنگ کی بھنگ رگڑ رہا تھا..مریدوں کا رش کم ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گیا۔
عامل بابا سستانے کا بول کے آستانے میں موجود چھوٹے کمرے کی طرف چلے گئے۔ شیدا عامل بابا کے لئے ٹھنذی بھنگ لے آیا.جسے ہونٹوں سے لگا کے عامل بابا نے تب ہی چھوڑا جب وہ بالکل ختم ہو چکی۔عامل بابا کی آنکھیں لال ہونے لگی. عامل بابا ابھی لیٹے ہی تھے.کہ غفورا آستانے کے احاطے میں داخل ہو تا نظر آیا۔
شیدے نے کہا ۔"بعد وچ آں بابے ہوری آرام پے کردے نیں."
عامل بابا نے آواز لگائی:" آن دے شیدے۔۔۔"ہاتھ کے اشارے سے عامل بابا نے غفورکو پاس بلایا.اور کہا:
 "بول کیوں آیا ایں؟"
غفورے (ْغفو ر) نے عامل باباکے دونوں ہاتھ تھام لئے.
"بابا جی او مینوں چھڈ کے کسے ہور نال ویاہ کرن لگی اے۔او کہندی اے توْ پڑھیا لکھیا ئیں۔نا کوئی کم کردا ایں.بابا جی میں کم نیں کردا۔اس د ا مطبل
(مطلب)کہ میں انج ای رہنا.میں کدے کم نیں کرنا.؟ پیار میرے نال تے ویاہ ہور کسے نال۔
باباجی تْسی کوئی عمل کرو نا او میرے کول آجاوے..ٖ"غفورے کے ہاتھوں کی گرفت عامل بابا کے ہاتھوں پر اوربھی سخت ہو گئی. بابا نے آنکھیں بند کر لی۔جب آنکھیں کھولی وہ لال انگاروں جیسی ہو رہی تھی.
عامل بابا:" تیرا کام ہو جائے گا."
غفورے کی آنکھیں چمکنے لگی.
"تْو3000 روپیہ لے کے آ کل ۔.عمل کرناں کچھ سامان چاہی دا۔"3000 روپیہ" ...........غفورے کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا."میں انے پیسے کتھوں لے کے آوں؟؟میں دسیا وی اے۔ میں کوئی کم نیں کردا."
عامل بابانے ٹکا کے جواب دیا".پیسے نیں تے جا۔تیرا کم نییں ہوسکدا."
غفورے نے منت کی.عامل بابا نے آنکھیں بند کر کے اْوپر بازو رکھ لیا.یہ اس بات کا اعلان تھا.کہ مزید بات نہیں  کریں گے.غفورا کچھ دیر کھٹرا دیکھتا رہا.اورپھر آستانے کے ا حاطے سے با ہر نکل آیا.
.گھر واپس آ تے ہی کمرے میں گھس گیا. چارپائی پہ چت لیٹ کے کمرے کی چھت گورتا رہا.طرح .طرح کے خیال ستا تے رہے.اْسے کسی اور کے ساتھ سوچ کے ہی اْس کا خون کھولنے لگ جاتا. پتا نہیں کب اْس کی آ نکھ لگ گئی. شام کے قریب جا کے کہیں جاگ آئی.منہ ہاتھ دھو کے اپنے جگری یار ولی کے گھر چلا گیا۔ولی کو لے کے غفورامیدان میں آ گیا اور غفور نے ساری بات ولی کو بتائی کہ وہ کیوں پر یشان ہے..عامل باباساتھ ہونے والی ساری باتیں بھی تفصیل سے ولی کو بتادی..تمام باتیں سن کے و لی کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگیا..
بولا :"بس ا تنی سی بات ۔یارپیسے خرچن دی کی لور اے۔کجھ انج کر کے او تیر ی نیں تے کسے ہور دی وی نا ہو سکے۔"
غفورہونکوں کی طرح ولی کی طرف دیکھنے لگا.
"یار انج کداں ہوے گا.اْس دے کار (گھر)والیاں نے تاریخ ڈال دتی اے.او۔ وی ماں دی اڈھی چٹرھ گئی اے.کہندی اے توْ نکماں ا یں.تے نکماں ای رہنا.
ولی یار میرا دل کردا. او ہنوں لے کے نس جاواں.یار او گل کرے تے میں اوہنوں سمجھواں.توْ دس ولی میں کی کراں یار؟ "
ولی:"او روز سکولے(سکول) جاندی اے نا۔تے .کل گل کر لیندے آں۔توْ میرا ویر پریشان نا ہو.کل ہون دے سبھ سیٹ ہو جاوے گا."
 غفورا مطمن سا ہو گیا.کہ ولی نے سوچیا اے تے کجھ نا کجھ تے ہو ای جاوے گا.
اگلے دن دونوں گلی کی نکٹرپہ کھٹرے اْس کا انتظار کر نے لگے۔.گرمیوں کے دن تھے.گلیاں محلے سنسان پڑے تھے.وہ سکول سے نکلی گھر کے لئے،اس بات سے انجان کے آگے ولی اور غفور دھاک لگائے بیٹھے ہیں۔وہ گلی میں داخل ہوئی تو غفورکو دیکھ کے ٹھٹک گئی۔سوچنے لگی چپ چاپ گزر جائے گی.جیسے ہی غفورکے پا س سے گزری غفورنے آگے ہوکے راستہ روک لیا۔ہاجرہ نے غصے بھری نظروں سے غفور کی طرف دیکھا.
"چھوڑ میری راہ غفورے۔ "غفور ڈٹ کر کھٹرا رہا.
 ہاجرہ نے منت کی ۔"چھوڑ دے کوئی دیکھ لے گا.۔"
غفور نے ہاجرہ کا ہاتھ پکڑ لیا. ہاجرہ نے زور دار تھپڑ  غفور کے منہ پر دے مارا.ہ غضے سے غفورکا چہرہ لال ہو گیا.اور ہاجرہ کا ہاتھ پر اْس کی گرفت اور بھی مضبوط ہو گئی..ہاجرہ منت کرتی ہاتھ چھڑانے کی کو شش میں تھی کہ ولی نے آگے بڑھ کے تیزاب سے بھری بوتل ہاجرہ کے منہ پر اْنڈل دی.درد سے وہ بلک اْٹھی.غفور ے نے دھکا دے کر اْسے زمین پرگرا دیا اور ولی کا ہاتھ پکٹر ے بھاگتا بھاگتا گاوؤن کی گلیوں میں کہیں گم ہو گیا۔۔۔۔


ختم شد







LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...