FAMOUS URDU NOVELS: Muhammad Arsalan

HERE YOU CAN SEARCH FOR THE NOVELS LINKS

Showing posts with label Muhammad Arsalan. Show all posts
Showing posts with label Muhammad Arsalan. Show all posts

Sunday, April 5, 2020

Kuch door sawera afsana by Muhammad Arsalan pdf




Kuch door sawera afsana by Muhammad Arsalan pdf

Kuch door sawera afsana by Muhammad Arsalan


Download free online Urdu books pdf, Free online reading

social, romantic, Urdu novel & afsana

Kuch door sawera afsana pdf by Muhammad Arsalan

complete in pdf.

Click the links below to download in pdf or read online.

DOWNLOAD LINK (Drive)

DOWNLOAD LINK (Mediafire)



OR


ONLINE READING LINK



If you have any problem in downloading plz visit this link below






Tuesday, January 23, 2018

Insaniyat kay darmiyan khushi ka raaz Article by Muhammad Arsalan




Insaniyat kay darmiyan khushi ka raaz Article by Muhammad Arsalan


"
انسانیت کےدرمیان خوشی کا راز"

خدا نے انسان کو تخلیق فرما کر اسکی زندگی میں مختلف رنگ بھر دیئے آسمانی کتابوں اور انبیاء کرام علیہ السلام کے ذریعے ہر اچھائی اور بد چیز کا علم بھی دیا۔ انسان خوش یا غمگین اپنے فعل و کردار سے حاصل شدہ نتائج کی بدولت  رہتا ہے یہ قابل ذکر بات ہے کہ جب مکمل طور پر انسان جینے کا ڈھنگ سیکھ لیتا ہے تو اسکی  قبر کی حیات کا وقت ہو جاتا ہے جو اچانک اس پر مسلط کر دی جاتی ہے۔
انسانی حیات اور معاشرہ ایک صورت میں بہتر ہوسکتے ہیں جب اردگرد خوشی کا ماحول ہو۔ خوشی کے طریقوں میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے فعل وکردار سے دوسروں کی زندگی میں خوشیوں کے لمحات لانے کی وجہ بنیں۔ 
ہر طرف ہمارےہمارے عزیزواقارب سمیت دوست ، معلمین، اہل محلہ ،انجان راہگیر بھی ہماری مسکراہٹ ،چاہت ، احساس اور مثبت سوچ کے طلب گارہوتے ہیں۔ لیکن ہم دوسروں کا بہتر خیال اس وقت رکھ سکتے ہیں جب ہم بزات خود خوش،مطمئن اور پر اعتماد ہوں یعنی ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہم اپنا بہت خیال رکھیں ۔
اکثر ہم اپنی خواہشات اور پسندیدہ چیزوں کو ترک کرکے دوسروں کی فکر میں مشغول ہوجاتے ہیں جو کہ بہترعمل نہیں ہےکیونکہ وقتی طور پر ہم ایثار کرکے کم مقدار میں خوشی محسوس کرلیتے ہیں اگر ہم دوسروں کو اور خود کو زیادہ خوش دیکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اہم اپنی ضروریات اور خواہشات کو پورا کریں۔ 
ذہنی اور ہر اعتبار سے ہم خوش ہونگے تو زیادہ بہتراور لمبے عرصے تک ہم کوشاں رہیں گے کہ دوسروں کیلئے ایسے راستے پیدا کریں جن سے انہیں فائدہ ہو۔ غصہ نہ کرنا، جلد ہی معاف کردینا، صبر کرجانا، صورت حال کو مثبت طریقے سے سوچ سمجھ کر پھر اس سے متعلق کوئی قدم اٹھانامفیدہوتاہے۔ ہماری زندگی میں خوشی کے اوقات قلیل مقدار میں ہوتے ہیں جنہیں ہم اکثر گنوا دیتے ہیں ، کبھی ہم کسی کے سچےاحساسات کو سمجھنے میں قاصر ہوتےہیں تو کبھی ..........
کسی بھی مزہب سے تعلق رکھنے والاشخص ایک صورت میں کثیر وقت خوشی میں گزارتاہے جب تک اس کی سوچ اور  اعمال مثبت ہوں۔ بچے سے بوڑھے شخص تک ہر کوئی دوسروں کیلئے خوشی کا باعث بنارہتا ہے جب تک وہ نیک اور خالص سوچ کے ساتھ اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچائے۔





Thursday, January 18, 2018

Gunj e asia Article by M Arslan




Gunj e asia Article by M Arslan


" گنجِ ایشیا "

جنوبی ایشیا میں "پاکستان اور بھارت" گنجِ ایشیا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کو اس لیے دو ملکوں میں تقسیم کیا گیا کہ دو الگ قوم و مزہب کے لوگ امن وسکون سے رہ سکیں۔ یوں تو صدیوں سے "مسلمان اور ہندو" پیار ومحبت رہتے آئے ، ایک دوسرے کے احساسات اور جزبات کی قدر اور احترام کرتے آئے جو اب تک بھی ہے۔ نفرت کی آگ تو بیرونی عناصر نے لگائی جس بنیاد پر انتشار پھیلا اعر ہزاروں اور لاکھوں جانیں صرف اس لیے قربان ہوئیں کہ تمام لوگ خود کو بہتر ثابت کر سکیں اور پہلے کی طرح انکے معاشرے چمن و گلزار بنے رہیں لیکن بےسود۔ پاکستانی اور ہندوستانی عوام کے درمیان محبت اور خلوص کی کئی مثالیں و داستانیں اب تک ملتی رہی ہیں اور جاری رہیں گی۔ اسکا ثبوت تاریخ  لکھتی ہے کہ آزادی کے دوران ہندو ، سکھ، اور مسلمانوں نے اہنی اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے دوستوں کو بحفاظت سرحد عبور کروائی۔ یہاں تک کہ جان، مال اور عزت پر کوئی آنچ نہ دی۔ کئی دہائیوں تک بزریعہ خطوط ایک دوسرے کا حال جانتے اور اپنی خیریت سے آگاہ کرتے رہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ کچھ دشمن عناصر کی سازش کی وجہ سے بیشتر مقامات پر کچھ گروہ سرگرم ہوئے اور دونوں طرف جانی ومالی نقصان سہنا پڑا۔ اس سب کے باوجود آج بھی دونوں ملکوں کی عوام الفت رکھتی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ انسانیت کے دشمن دونوں ملکوں میں نفرت کی آگ کو ہوا دے دیتے ہیں اس طرح دوری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہندو ہوں یا مسلمان دونوں اب بھی اپنے اپنے مزاہب اور خاندان کے سرحد پار پیاروں سے رشتہ جوڑے ہوئے ہیں، کئی باراتیں دونوں اطراف آتی جاتی رہتی ہیں۔ قدرت نے اسی بہانے ہمیں جڑے رہنے کا بار بار موقع دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد دونوں ممالک کی جانب سے ہمیشہ دعاگو رہتے ہیں کی امن والفت کا دائرہ اتنا وسیع ہوجائے کہ سبھی خوشی خوشی آجاسکیں۔ سیاح اس موقع کے منتظر ہیں کہ کب وہ دن آئے گا جب آسانی سے اجازت ملا کرے گی کہ جاؤ دیکھو قدرت کے رنگ، ان رنگوں میں دہلی، سوات، اجمیرشریف، چمن، کشمیر، مری، مبئبی، ناران، کاغان، قطب مینار، تاج محل اور سب سے قابل ذکر جگہ میگھالیہ (ماسن رام) اور چیرا پونجی(سوہرا) ہیں جہاں سب سے زیادہ نہمی پائی جاتی اور سال بھر بارش رہتی ہے۔ سیاحوں کیلئے یہ بہت دلچسپ جگہیں ہیں۔ امن وامان کی صورت میں دونوں سرحدوں کی اطراف میں موجود لوگ کئی فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ 





Wednesday, January 17, 2018

Chashm e intazar novel by Muhammad Arsalan pdf




Free download Chashm e intazar novel by Muhammad Arsalan pdf

Chashm e intazar by Muhammad Arsalan


Download free online Urdu books pdf, Free online reading

social, romantic, Urdu novel

Chashm e intazar Urdu novel by Muhammad Arsalan

complete in pdf.

Click the links below to download in pdf or read online.

DOWNLOAD LINK (Mediafire)



OR


OR


ONLINE READING LINK



If you have any problem in downloading plz visit this link below






LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...