FAMOUS URDU NOVELS: Article

HERE YOU CAN SEARCH FOR THE NOVELS LINKS

Showing posts with label Article. Show all posts
Showing posts with label Article. Show all posts

Monday, October 12, 2020

Social media ke samaji zindagi per asrat article by Nadia Tahir Ghuman




سوشل میڈیا کےسماجی زندگی پر اثرات

نادیہ طاہر گھمن

 

 

سوشل میڈیا گر سوچیں تو اللہ تعالٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ھے اور اگر انسانی حرکات کو دیکھیں، اسکے منفی استمعال کرتےلوگوں کی اطراف میں نظر گھمائیں تو ہم جان جائیں گے کہ ہماری قومیں کس طرح خدا تعالیٰ کی نعمت کا بے حد درجے تک غلط استعمال کر رہی ہیں ۔کس طرح مثبت ہوتے استمعال کو منفی روش اختیار کئے لوگ تباہی مچاتے زندگیاں روئی کی طرح اڑا کر تباہ کرتے طوفانوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں ۔کس طرح  تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں، آنے والی نسلیں کس  دور میں داخل ہونے جا رہی ہیں۔ ہم جان جائیں تو یقین جانیں کبھی کسی اللہ کی دی نعمت کا غلط استمال نہ کریں ،نہ بھٹکیں۔

سوشل میڈیا کے فوائدونقصانات میں باری باری تفصلًا یہاں بیان کروں گی

فوائد

فاصلے کم کرنے کا ایک اہم ذریعہ

انٹرنیٹ بہت سے فاصلوں کو خود میں سمو کر اپنوں کی دوریاں مٹاتا اپنے پیاروں کو  صحیح سلامت دیکھ کر دلوں کو راحت پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا ہے ۔ماں اپنے بیٹے کو خود کے قریب محسوس کرتی ہے جو کوسوں دور بیٹھا بات کر رہا ہوتا ہے تو وہیں اور بھی رشتوں کی محبتوں کو  محافظ بن جاتا ہے۔

علم سکھاتا اک معلم

انٹرنیٹ ایک استاد کا کام کرتا ہے ۔جب آپ کو کسی چیز کو سمجھنے میں مسلہ درپیش آتا ہے تو یہی انٹرنیٹ آپ کا استا د بن جاتا ہے اور ہر وہ پہلو جو آپ کی سمجھ سے باہر ہوتا ہے بہترین طریقے سے اس کے ہر پہلو کو وہ حل کر کہ ایک معلم کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔

اچھائی اور برائی میں فرق بتاتا اک رہنما

وہیں اگر آپ کو کسی فیصلے پر پہنچنے میں دشواری پیش آ رہی ہو تو آپ اس کے فوائدو نقصانات خدا کی اس عطا کردہ نعمت کی مدد سے جان کر باآسانی فیصلے پر پہنچ سکتے ہیں۔

مشکل میں کام آنے والا اک دوست

 

جب ہمیں فوری مدد چاہیے ہو اور کوئی ہماری رہنمائی کے لیے ساتھ نہ ہو تو یہی معلم دوست بن کر رستہ دیکھاتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔

ترقی کے مواقع بڑھاتا اک مددگار

آجکل ہر  ترقی کے مواقع کی خبر پہلے سوشل میڈیا پر آتی ہے پھر کسی اور صورت میں ہمیں معلوم ہوتی ہے روزگار کے ذریعے بڑھانے میں سوشل میڈیا بہت مددگا ثابت ہوا ہے۔

ضرورت مندوں تک پہنچنے کا  ذریعہ

اگر کوئی ضرورت مند کسی مشکل میں ہو یا اسے کسی مدد کی ضرورت ہو تو اس تک سوشل میڈیا پہنچنے میں مدد کرتا ہے۔

جہاں سوشل میڈیا کہ اتنے فوائد ہیں وہیں اس سے کہیں زیادہ اس کے نقصانات دیکھنے میں آ رہے ہیں

 جب نیا نیا سوشل میڈیا عام ہونے لگا تو اسلامی سکالز نے اسے شیطانیت کا نام دیا جو کہ آہستہ آہستہ اپنی شیطانیت حقیقتاً دیکھانے لگا اور اس کے نتائج بھی جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔

نقصانات

سوشل میڈیا ایک بے رحم لٹیرا

سوشل میڈیا ایک ایسا لٹیرا ثابت ہوا ہے جو خود کو ایک دوست دیکھاتے ہوئے ذہنیت سوچ اور روحانیت کو چھین لیتا ہے اور سب سے بڑھ کر ہماری نوجوان نسل میں یہی سوشل میڈیا روحانیت کا لٹیرا بن کر سامنے آیا ہے جسے ماننے سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں۔

حکمرانوں کی کاہلی

 یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ کوئی چیز بری نہیں ہوتی بلکہ اسکا استمعال اسے برا بناتا ہے ۔کوئی قوم خود سے تباہی کی طرف گامزن نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے بہت سے عہدوں کے چیزوں کے استمعالات انہیں تباہی کی جانب دھکیلتی ہیں۔ دراصل یہ طاقتیں ہی ہیں جو سب جانتے بوجھتے بٹیر کی طرح آنکھیں موند لیتی ہیں سب جانتے بوجھتے اختیار میں سب ہوتے ہوئے بھی اپنے مفاد کے لیے چپ سادھ لیتی ہیں۔

 افسوس ،نہیں سوچتے کہ کیسے وہ خاموشی سے کئی جانوں کا قتل کر رہے ہوتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ وہ کیسے اللہ کی سپرد کی گئی امانتوں میں خیانت کر ہے ہوتے ہیں ان سب میں فقط ہمارے اوپر مسلط کیے جانے والے حکمران ہی نہیں ہیں بلکہ ہر وہ عہدہدار شامل ہے جس کے بس میں ان حالات کو روک پانا ہوتا ہے مگر چپ رہتے ہیں ،ایک دم چپ۔

قوموں اور نسلوں کی تباہی کی بڑی وجہ

اگر ملک کا نظام ایسا رائج کیا جائے جس میں ہر فتنہ شر گناہ کی جانب راغب کرتی چیزوں سے دوری اپنانے کی تربیت کی جائے اگر سوشل میڈیا سے ہر وہ چیز جو فتنے کا یا ہماری قوم کی تباہی کا باعث بنےتو کیونکر نہ اس عروج پاتی چیز کو روکاجائے؟

اس کی مثال آج کل بہت ہی عام ہمارے معاشرے کو زوال کی طرف لے جاتا ہماری نوجوان نسل کے ذہنوں کو جکڑ لینے والا ایک کھیل پب جی ہے اور بے حیائی پھیلا کر اسے عام کرتا ٹک ٹاک جسے ہمارے لوگ بہت فخر سے ہاتھوں میں بڑے بڑے موبائل تھامے فخر سے مہنگے پیکجز پر ماں باپ کی کمائی کو عیاشیوں کے نام کرتے چل رہے ہوتے ہیں انجوئے مینٹ کہا جاتا ہے ،بے حیائی کو انجوائے منٹ کا نام دے کر بہت آگے لے جا یا جا رہا ہے۔

 اور افسوس صد افسوس، ہمارے حاکم خاموشی سے بیٹھے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔

شیطانیت کے بڑھنے کی وجہ

اگر آپ شر پسند ہیں تو آپ شر کو ہی پھیلانے کے لیے کسی بھی چیز کا استعمال کریں گے لیکن اگر آپ امن کے پجاری ہیں تو وہی چیز بہتر طریقے سے استمعال کی جائے گی ۔

یہاں فرق ہے تو فقط سوچ کا تماشائی کی بجائے رہنمائی کا

بے رحمی کی اہم وجہ

وہیں دیکھا جائے تو ایک آدمی جو جھلس کر مر رہا ہو یا کوئی حادثے کے باعث آخری سانسیں گن رہا ہو تو لوگ پریشانی سے اکٹھے تو ہو جاتے ہیں مگر بتاتے ہوئے بھی دل کٹنے لگتا ہے کہ انہیں کسی کے موت کے آتے لمحوں میں بھی سوشل میڈیا جھکڑ لیتا ہے وہی لوگ موبائل فونز نکال کر تصاویر کھنچنے لگتے ہیں تو کچھ ویڈیوز بنا کر اپ لوڈینگ میں لگ جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں اس ٹھنڈے پڑتے وجود کو اور اکھڑتی سانسوں والے کو۔

فاصلوں کو بڑھانے کی وجہ

جہاں سوشل میڈیا فاصلوں کو کم کرنے کی وجہ بنتا ہے وہیں ایک ہی گھر میں اپنے اپنے موبائل فونز میں غرق اولاد کو والدین کے پاس ہوتے ہوئے بھی دور کر دیتا ہے ۔

بوڑھے والدین کی آوازیں نا جانے کیوں کانوں سے ٹکرانا بند ہو جاتی ہیں اور سماعت کہیں خاموش تماشائی بنے سب دیکھ رہی یوتی ہے اور وہیں یہی سوشل میڈیا عزتوں کے لٹنے کی وجی بن جاتا ہے کمزور ذہنوں کو زنگ لگنے کا باعث بن جاتا ہے۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمیں اپنے ذہنوں کی تربیت کرنی ہے ہمیں ہمارے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے شر پھیلاتی جان لیوا کھیلوں اور چیزوں کا بین ہونا ضروری ہے اپنے جوانوں کے کمزور ذہنوں کو اسلام کی طاقت سے مضبوط بنانا ضروری ہے اور ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کر کے امیروں کو سوشل میڈیا پر ان کی تصاویریں شیئر کرنے سے ان کا مذاق اڑانے سے روکنے کی ضرورت ہے-

امیر زادوں کی  امیری کے نشے کو سوشل میڈیا کے سہارے اتارنے سے بچانا ہو گا۔

ارے اے طاقت ور تو نے تو کمزور کا تماشہ ہی بنا ڈالا

تو طبیب تھا کہتا تھا کروں گا مریضوں کا علاج،

باپ کے ہاتھوں میں بیٹی کا تماشہ ہی بنا ڈالا،

تو استاد تھا کہتا تھا علم کا آفتاب بنوں گا،

ارے تو نے تو طلبہ کی زندگی کا تماشہ بنا ڈالا،

تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں سوشل میڈیا کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ہر فرد کو بہتری کی اشد ضرورت ہے دراصل حقیقتاً  اب ہمیں اسلام کے اصولوں کی ضرورت ہے.

******************************************





Bila unwan article by Sidra Ghaffar




عنوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پتہ ہے آج عنوان کیوں نہیں لکھا ہم نے۔۔کیونکہ آج کے الفاظوں کو آپ میں سے بہت لوگوں نے دل کے تھیلے میں بند کر کے اس کونے میں رکھ دینا ہے جھاں آپکا آنا جانا بہت ھی کم ہوتا ہے یا بھولے سے اگر اس کونے میں آبھی جاؤ تو ناک منہ چڑھا کے واپس پلٹ جاؤگے تو میں بھلا کیوں اس تھیلے پہ ایسا نام نصب کروں کہ آپ مجبور ہو کہ پڑھو۔۔مجبور کبھی نہیں کرتے ہر کام دل سے ہوتا ہے اور ہم چاہتے کہ ہر لفظ دل سے پڑھا جاۓ اس لیے ہم عنوان کے جھمیلے میں نہیں ڈالیں گے ۔۔۔

جس طرح ایک اوپر پرواز کرتے جہاز کو لینڈ کرنے میں وقت لگتا ہے۔۔جس طرح زندگی کو قوس قزح بنانے میں وقت لگتا ہے ۔۔۔جس طرح بچے سے نوجوان بننے میں وقت لگتا ہے۔۔اسی طرح حیوان سے انسان بننے میں بہت وقت لگتا ہے۔۔۔

 آج کل ہر طرف نفسہ نفسی کا عالم ہے۔۔ہر کوئی دوسرے سے بہترنظر آنے کی تگ ودو میں لگا ہے۔ہر کوئی منہ پہ اچھا اور دل میں منافقت لیے بیٹھا ہے۔۔۔ہر ایک ہوس کا پجاری بنا بیٹھا ہے حتیٰ کہ بچے سے بڑے تک اور یہ ایک شرم اور ڈوب مرنے کا مقام ہے۔۔ہم انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں رہے۔۔کبھی دل کے آئینے کو بھی دیکھ لینا چاہیے سچ اور جھوٹ کا ہھت خوب وضاحت کرتا ہے۔۔

مگر اس آئینے کو دیکھنے کا حوصلہ کسی کسی میں ہی ہوتا ہے۔کوئی اس آئینے میں دیکھ کر خود کو پہچان لیتا ہے اور کچھ لوگ پہچان کےانجان بن جاتے ہیں۔۔۔اور یہیں وہ گناھوں کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔۔کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ ہم کیوں انسان کہلائے جاتے ہیں ہم میں انسانیت تو ہے نہیں بس زبان ہے جو ایک ناگ کی طرح ہر وقت پھن پھیلائے ہوئے ہے۔۔جسے جو کھانے کے لئیے دے ذرا سی چونک یا مجبوری پہ اسے ہی لفظوں کےجانلیوا زہر سے موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔۔۔اس کے علاؤہ کیا ہے ،،

اور افسوس ہوتا کہ ہم اتنے بےحس پڑھے لکھے ان پڑھ معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں سچ ایک جھوٹ ہے اور سچ۔ بولنے پہ واحیات القابات اور گالیوں سے نوازہ جاتا ہے۔۔ہر طرف بے حیائی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔۔دکھ اس بات کا ہے کہ اتنی مظبوط جڑیں حق سچ تعلیم یا پرہیز گاری کی نہیں ہیں جتنی مظبوط جڑیں کھوکھلی انا بےحیائی اور منافقت کی ہیں۔۔۔اس سب کا ذمہدار کون ہے۔۔کیاکوئی پیدا ہوتے ہی زانی تھا یا تھی ۔۔کیا کوئی ماں کی کوکھ سے ہی جرم سیکھ کے آیا ہے۔۔۔

نہیں۔۔۔۔

ایسا اسے معاشرے نے بنایا ہے۔۔اس معاشرے نے بنایا ہے جو بھرے بازار میں حوا کی بیٹیوں پہ اٹھنے والے ناریباالفاظ کی تردید نہیں کرتا۔۔یہ اس معاشرے کا قصور ہے جس میں جب بیٹی گھر سے باہر نکلتی ہے تو غیرت مند باپ اور بھائی اور ماں یہ نہیں دیکھتی کہ کیا ھماری بچی ڈھکی ہوئی ہے کہ کوئی اس پہ بول نہ سکے۔۔۔ماں یہ تو نہیں جانتی کہ کسی چوڑاہے پہ کھڑا اسکا غیرت مند بیٹا ایک چادر میں لپٹے وجود پہ نازیبا الفاظ کی بوچھار کر رہا تھا۔۔جناب مت بھولیے یہ دنیا مکافات عمل ہے جو بو گے وہی کاٹو گے۔۔

مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ سب اپنی آنکھوں پہ جھوٹ اور خوش فہمی کی پٹی باندھ کے بیٹھا ہے کہ ہم تو مسلمان ہیں ہم تو بخشی امت ہیں سیدھا جنت میں جائیں گے کوئی ہم سے حساب کتاب نہیں ہوگا جو کرتوت ہم اس جہاں کر کے جا رہے۔۔اوہ بھائی کوئی تو انکی منافق اور جھوٹی نفسیات کو کچلے یا کچلنے کی کوشش ہی کرے کوئی بتائے کہ وہ جہالت وتنزلی کی طرف رواں دواں ہیں وہ بھول رہے ہیں کہ جنت ملنا اتنا آسان نہیں ہے پہلے اس جہاں کو اپنے اچھے اعمال اور اچھے اخلاق سے جنت بنانا پڑتا ہے تب جا کے اس جہاں کی جنت ملے گی۔۔سمجھ نہیں آتی کہ کیسے اتنے بڑے بڑے جرم کر کے سکون کی نیند سو لیتے ہو کہ کوئی اسکا حساب لینے والا نہیں ہے کیسے بھول گئے ہو کہ جنکی اولاد ہو انکی ایک غلطی پر انہیں سزا دی گئی اور اس جنت سے باہر نکال دیا جس کے تم لوگ ہزاروں سنگیں گناہ کر کہ خواہش مند ہو۔۔۔

انھوں نے نجانے کتنا عرصہ توبہ کی ۔۔اور تم لوگ جو گناہ پہ گناہ کئے جاتے ہو کہ اسکی کوئی پکڑ نہیں ہے۔۔یا پھر ایک دفعہ توبہ کر لی اور دوبارہ گناہ کر لیا۔۔سب نے اپنی زندگی کو ایک مزاق اور کھلونہ بنا کے رکھ دیا ہے۔۔

انکی مثال ایک مکڑی کے جالے جیسی ہے وہ مکڑی جو جانتی ہے کہ اسکا گھر بہت کمزور ہے اگر تیز ہوا کا جھونکا بھی آیا تو اسکی محنت اڑا لے جائے گا توڑ دے گا ۔۔بنتا بھت پیارا ہے مگر کھوکھلا ہوتا ہے۔۔۔انسان بھی اب مکڑی سے بھی بدتر بن گیا ہے یہ بھی اپنی جھوٹی انا اور شان و شوکت کے اونچے محل بنا کے بیٹھا ہے  مگر بات پتہ کیا ہے اسکی بنیادیں بھی کھوکھلی ہیں۔۔

اسکی بنیادوں میں جھوٹ کا سریا پڑا ہے،منافقت کے پتھر پڑے ہیں،فحاشی و بدکرداری کی مٹی پڑی ہے،جھوٹی انا اوربےادبی کا سیمنٹ لگا ہے اورکفروشر اور دھوکہ فراڈ کا لینٹر ڈالاہے۔۔۔

یہ بنیادیں کیسے مضبوط ہو سکتی ہیں ان نام نہاد انسان کے محلوں کی۔۔۔

بات بس اتنی ہے کہ ہم اب کچھ سن نہیں سکتے ہاں سنا سکتے ہیں کسی کے کردار کی دھجیاں بھرے بازار اڑا سکتے ہیں اور کوئی ہماری اصلیت کا ایک حرف بھی بولے تو ہمیں دنیا جھاں کی تمیز یاد آجاتی ہے۔۔بار بار کہوںگی دنیا مکافات عمل ہے جو گڑھا کسی کے لیے کھودو گے اسکی گہرائی کا اندازہ آپ کو بھی اسی جھاں میں ہوگا ہر راستے میں گڑھے آپکا مقدر بن جائیں گے۔۔۔

تو خود کو مکمل کیجیے وہ مکمل کیسے کرنا ہے آپ پہ منحصر ہےیا تو جھوٹی انا میں جیو اور رسوائی کو گلے لگاؤ یا پیار کے دو بول بولو مٹ کے رہو اور دنیا کی نظر میں بھی اچھے بنو اور اس واحدوپاک اعلیٰ وارفع ذات کی نظر میں بھی اعلیٰ مقام بناؤ کیونکہ لوٹ کہ تو اسی کی طرف جانا ہے چاہے آج یا چاہے کل پھر کیا منہ دکھاؤ گے۔۔۔

جانتی ہوں یہ باتیں کسی کہ لیے بس الفاظ کسی کے لیے مزاق اور کسی کے لیے شائد ضمیر کی آواز ہو۔۔تو براۓ مہربانی اپنے ضمیر کی آواز سنیں اور اچھا طرزِ زندگی اپنائیں۔۔۔اور اچھی پاک زندگی کا چناؤ صرف آپ خود کر سکتے ہو اور کوئی آپکا خیرخواہ نہیں ہے یہ معاشرہ تو غلاظت سے بھر چکا ہے۔۔اپنا دامن صاف آپ کو خود رکھنا پڑے گا ۔۔گندگی کے چھینٹوں سے بچاؤ آپ کو خود کرنا پڑے گا۔۔ورنہ اس غلاظت و گندگی کی نظر کرنے والے جگہ جگہ پڑے ہیں آپ کی نظر بھی انکی دنیا کی طرف اٹھی تو رنگیں خواب دکھا کہ اس گندگی کا بادشاہ آپکو بنا دیا جائے گا۔ ۔تاہم خود بھی غلاظت سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔۔

مت بھولیں کہ توبہ کا در ہر وقت کھلا رہتا ہے مگر سچی توبہ کا۔۔

 اپنے من دی تے بو نئیں جاندی۔

عطردی خوشبومیں ونڈی جاواں۔ ۔

ایویں تےمن دی بو نئیں او جاندی۔۔

جےمیں سچےرب نوں ناں مناواں۔

طالبِ دعا۔۔سدرہ غفار۔۔





Saturday, September 26, 2020

Betiyan by Fiza Malik Article




  

 

بیٹیاں

 

فزا ملک

 

👉 بیٹیوں کو رحمت مانتے سب ہیں...  لیکن یہ رحمت چاہتا کوئی ہی ہے...

"مبارک ہو بیٹی ہویی ہے "

دو بیٹیوں ک بعد اقسر تیسری یا چوتھی بیٹی ہونے پر یہ الفاظ ما کے چہرے پر بھی  ایسے تاثرات لے آتے ہیں جیسے موت کا سنناتا ہو.....

ممکن ہے اسے ساس یا نندو کے تانے یاد آتے ہو....

یا شوہر کی دوسری شادی کا خوف کھاتہ ہو.....

یا شاید اسکو یہ فقر بھی لاحق ہو کی انکی شادی کیسے ہوگی....

حیرت ہے ہم اتنے آگے بڑ گئے ہیں....

لیکن کاش ہماری ذہنیت نے بھی اتنا ہی ڈویلپمنٹ کیا ہوتا..... 🤐🤐🤐

ہویی ہے بیٹی جو پیدا چلو پھر مارتے ہیں نا..

کوئی اچّھی سی جگہ دھندو...

چلو پھر گاڑتے ہیں نا....

اگر یہ سوچ رکھتے ہو....

سنو تم قفر کرتے ہو...

الله کی وہ رحمت ہے...

تم کیو فقر کرتے ہو....

بیٹی گھر جب آتی ہے..

ٹھنڈی چھاؤ آتی ہے.....

اپنا اور گھر کا رزق اپنے ساتھ لاتی ہے...

روزے محشر تم جہنّم مے ہی جچوگے......

معصوم بچچیاں اففف.......

انکے عذاب سے کیسے بچوگے........

@فزا اخلاق

 

بیٹی تو رحمت ے خدا ہوتی ہے...

بیٹی بری کیسے ہو سکتی ہے....

ہمارے نبی ے پاک کے گھر بھی تو بیٹیوں جیسے پھول کھلے تھے.... ❤❤

"بیٹی ہر گھر مے کہاں ہوتی ہے....

جو گھر الله کو پسند آ جائے وہیں ہوتی ہے.... "❤❤❤

 


کیسا لگا اپنی راے کا اظھار ضرور کریں میرے انسٹا اکاؤنٹ پر 

فزا اخلاق






Wednesday, September 16, 2020

Khawateen March Article by Anila Sadiq






خواتین مارچ۔۔۔

انیلا صادق


میراجسم میری مرضی "  ایسا سلوگن کیا اس معاشرے میں جہاں عورت حکومت کرتی ہے۔ایک ایسا اسلامی معاشرہ جس میں بیٹی کو رحمت ،ماں کو جنت ،بہن کو مان اور بیوی کو عزت کا مقام حاصل ہو وہاں کیا اس طرح کے نازیبا اور باز گشت سلو گنز اور الفاظ استعمال کر کے عورت پر ہونے والے تشدد اور زیادتیوں کی اس طرح مزاحمت کرکے کیا آج کی عورت کو وہ مقام دلا سکتا ہے جو بہت پہلے ایک عورت کو اسلام کی رو سے ملا یا میسر ہے ۔محترمہ ماروی سرمد صاحبہ عورت کو اس کے مقام سے نہ گرائیں خدارا!
ہم   سب تو جانتے ہیں عورت کا مقام ایک اسلامی معاشرے میں مگر میں عورتوں کے حقوق کے نام نہاد علمبردار منتظمین کو تاریخ کا وہ آئینہ دکھانا چاہتی ہو  خصوصا" ان ماروی سرمد صاحبہ کو۔یہ عورت کیا تھی ؟زندہ درگور کر دی جاتی تھی۔۔یہ غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی تھی۔یہ معاشرے پر بوجھ سمجھی جاتی تھی ۔مردہ شوہر کے ساتھ جلا دی جاتی تھی اور تو اور اسکو وراثت کا کوئی حق میسر نہ تھا۔اسلام کے ظہور کے بعد اسے وہ مقام ملا جس سے وہ خاندان بھر پر حکومت کرنے لگی۔بہن ،بیٹی، ماں اور بیوی کی صورت میں ۔۔۔۔
ہم جو نازیبا آور باز گشت سلو گنز سر عام روڈز پر آن کیمرہ بول کر اس اسلامی معاشرے کی بنیادوں کو کمزور کر نے والے یورپین سوسائٹی کی تہذیب و ثقافت کو اپنا کر اپنی حکمرانی سے بازیاب ہونے پر  تلی  ہوئی ہیں ۔وہ اسلامی معاشرہ جہاں اسلام کے نام پر کئی خاندان قربان ہوئے صرف اسلام کے نام پر وہ اسلامی ریاست جس نے عورت کو با پردہ رہ کر وہ معتبر مقام دلایا جو شاید آ ج کسی یورپین عورت کو یا ہم جیسی لبرل عورت کو حاصل ہو ۔۔۔خدارا! فاطمتہ الزہرہ  جس کی 'ط' میں طہارت میں سمٹی ہے یوں اپنی آزادی اور ناجائز حقوق کے لیے پامال نہ کریں ۔

معاشرے کے ان مٹھی بھر  وحشی مردوں کے لیے میرے معاشرے کے کے با عزت اور باوقار بھائیوں، شوہروں اور بیٹوں کو ان کے مقام سے نہ گرائیں جن کی وجہ سے ہم اس معاشرے میں بامحفوظ اور باوقار ہے۔یہ بے ہودہ الفاظ اور جملے جو بغیر سوچے سمجھے آن ائیر استعمال کر نا کہاں کی بہادری اور انسا نیت ہے ۔ایک مرد جس کی سپورٹ کے بغیر ہم خاک ہیں ۔ہم اس کی مانند ہے جس کی دیواریں تو ہو مگر ستون نہیں تو پھر کیوں میری بہنوں ۔۔۔۔
  How is it.........??
آپ کو یہ پتہ ہے کہ ریسرچ نے یہ ثابت کیا ہے کہ 90 فیصد مرد حضرات cheat نہیں کرتے ۔باقی جو دس فیصد ہیں اگر وہ cheat    کرتے ہیں تو اس کا بھی ریذن ہے۔۔۔۔۔
Because they have spouse cheat........
اب آپ سوچے گے کیسے ،کیوں اور اس میں کس قدر سچ ہے۔۔۔?       
                  !suppose
      ایک مرد جب وہ دس سال کا بچہ ہوتا ہے اس پر عمر سے پہلے ہی ماں، بہن یا بہنوں  کی ذمہ داری اور وقت گزرنے کے ساتھ ذمے داریوں کا کا بڑھنا مگر اس کی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ مقام وہ عزت اور اعتماد نہ ملنا جو وہ   deserve  کرتا ہے تو پھر کیا کرنا چاہیے اسکو جسکا تمام تر وقت اور سٹرگل ان رشتوں کے لیے ہوتی ہے جو اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں ۔ہم یہ سب کرنے کے باوجود وہ مقام اور حکمرانی چاہتے ہیں جو شاید ہم جیسی عورتوں کے لیئے تو نہیں ہے۔کوئی بھی رشتہ کے لے لیں اسلامی معاشرہ کا۔میں صرف اپنی اسلامی ریاست کی بات کر رہی ہوں جس کی وجہ سے دنیا کی تمام عورتوں کو وہ مقام میسر ہے جو شاید کسی ریاست کے بس کا کام نہیں ۔کسی بھی اور ریاست کو لے لیں یورپین یا مغربی ریاست ہو عورت اب بھی بھکاو ہے ۔مگر ہمارے اسلامی معاشرے میں جس کا حضرت خدیجہ الکبری جو باعزت طریقے سے معاشرہ کے غلیظ مردوں کا با پردہ رہ کر مقابلہ کرتی تھیں ، میرے نبی کی زوجہ محترمہ جن کی پردگی اور عزت کی قسم سورج دیتا ہے،حضرت اسماء بنت ابو بکر کس بہادری سے معاشرے کے غلیظ مردوں کا با پردہ رہ کر مقابلہ کرتی تھیں   اور وہ بیٹی جسے فاطمتہ الزہرہ جنت کی ملکہ کا اعزاز حاصل ہے ہم اس معاشرے میں کا حصہ ہو کر اس طرح کے سلو گنز استعمال کر کے اپنے اس معاشرے میں عورت کے مقام کو پامال کر رہی ہیں ۔یہ مقام تو ہمیں شاید اب سے صدیوں پہلے میسر ہو گیا تھا۔ہر رشتے کے تسلسل کو برقرار رکھنا سیکھیں ۔۔۔۔  
Every relation of the world wants balance .....

Compromise krna sekho hr rishte mai...then see how is life straight and forward....?


یہ ہے اسلامی معاشرہ ۔یہ ہے اسلامی ریاست ۔اور جو مقام اسلامی معاشرے نے قرار دیا ہے عورت اور مرد کا انہیں اس رو سے دیکھو اس سے بڑھ کر نہ سوچو اور نہ ہی دیکھو۔۔۔

    میں بشر ہوں بشر الاسد نہیں  
     ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہوں 
    پانچواں میرا کوئی رشتہ نہیں 





Friday, August 14, 2020

Allah ki musalmanon per rehmat ki nazar Article by Zunaira Riaz







اللہ کی مسلمانوں پہ رحمت کی نظر

اذ
 زنیرہ ریاض


 آج جس موضوع کا موقع ملا ہے وہ ہے وہ ہے آزادی
قوموں کی زندگی میں ایسے دن بھی آتے ہیں جو تاریخ ہمیشہ یاد رکھتی ہے اسی طرح ہمارا پیارا ملک پاکستان جو *چودہ اگست
1947 کو وجود میں۔ آیا اور یہ مبارک مہینے رمضان اود رات لیلتہ القدر کی تھی جب مسلمانوں کو اللہ نے اس خوشخبری سے نوازا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے بزرگوں نے بہت قربانیاں دی ہیں ہماری ہر تاریخ میں آزادی کے لیے جو خون کی ہولی کھیلی گئی ہے وہ دنیا کے سامنے نمایاں ہے۔۔۔۔۔۔۔
جو ہم کیا دنیا بھی نہیں بھول سکتی کے کس طرح انہوں نے جدوجہد کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علامہ اقبال نے انتیس دسمبر انیس سو تیس کو خطبہ الہ آباد میں علیحدہ ریاست کا تصور پیش کیا تھا
 جو آخر کار قلیل وقت میں پاکستان دنیا کے نقشے پہ اُبھرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 یوم آزای کی خوشی میں ہر سال عام تعطیل ہوتی ہے اور سکول کالج صبح کچھ دیر کے لیے کھلتے ہیں جن میں خاص طور پر قومک پروگرام کا بندوبست کیا جاتا ہے  آزادی اور پاکستان کی محبت میں نغمے گائے جاتے ہیں تقریں کی جاتی ہیں شاعری اوف علامہ کی غزلوں اور شاعری پہ روشنہ۔ ڈال کر نسل کا خون گرمایا جاتا ہے اور طرف تالیوں کا شور ہوتا ہے یہ بتایا جاتا ہے کہ کس طرح ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں اور یہ وطن حاصل کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرکاری اور نجی عمارتوں پپ قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں بانیِ قائد اعظم کے مزار پہ خصوصی پریڈ اور پھولوں اور چادر چڑھاتے ہیں فوجی دستہ سلامی پیش کرتا ہے توپوں کی سلامی دی جاتی ہے مزار لی حفاظت کے لیے ایک فوجی دستہ مزار قائد پہ موجوڈ ہوتا ہے جس کو اس روز تبدیل کر دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔اس موقع پہ دوسرے ممالک کے سربراہان صدر پاکستان کو مبارک کا پیغام بھیجتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ اس دن کو دلی جزبہ سے مناتا مظر آتا ہے ہر طرف رنگین پرچم اس  بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس ملک کا۔ بچہ بچہ پاکستان کے لیے لہو بہانے جان دینے کے لیت تیار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوش اور ولولے کا۔ ساتھ آزادی کا جشن مناتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگریزوں کی چالوں سے کئی بار یہ تحریک کامیاب نہ ہو سکی تھی انگریزوں نے بہت سے علما کو شہد  بھی کر دیا تھا جن میں مولانا کفایت کا زکر قابل مزکور ہے
کسی شاعر نے سچ ہی کہا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
    

*جہاں میں بندہ حر کت مشاہدات ہیں کیا
تیری نگال غلا ما نہ ہو تو کیا کہئے*

مذید یہ کے۔۔۔۔۔۔۔۔

*ترستی ہے نگاہ  نارسا جس کے نظارے کو
وہ رونق انجمن کی ہے انہیں خلوت گزینوں میں*

لیکن آج چودہ اگست جب قوم جشن منا رہی ہے ہم چودہ اگست کو انگریزوں کے جھنجٹ سے آزاد ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن جشن منانے والے آزادی
کے مطلط سے ہی نا آشنا ہیں۔۔۔۔۔۔۔
ان غلاموں کو پتا ہی نہیں آزاد
کسے کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

سنو پاکستانیوں
آزاد وہ شخص اور قوم ہے جس پر اللہ کے علاوہ کسی کا حکم نہ چلتا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو اللہ کے سوا کسی کے آگے نہ جھکتے ہو یہ آزادی کا۔ جشن۔ منانے والے ہزاروں نہیں لاکھوں کے آگے جھکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ انہیں جشن آزادی کا مطلب بھی پتا ہے کیا جو شہر میں موحود درباروؑ کا چکر لگا کر وہاں جھکتے ہیں کوئی قبر پہ سجدہ کر رہا ہے تو کوئی قبر کے آگے گم سم حالت میں پڑا ہے کوئی اعتکاف کی حالت میں قبر سے ٹیک لگائے بیٹھا ہے تو کوئی قبر کو چوم رہا ہے کوئی وہاں رکھا نمک چاٹ رہا ہے
یہ مردوں کے غلام مردوں سے خوف کھانے والے مردوں سے امید لگا کر بیٹھے ہیں انہیں آزادی کا کیا پتا؟
آزاد قوم وہ ہے جس کو اللہ پہ توکل ہو افسوس کے ساتھ ہر چیز میں چھیڑ چھاڑ کر دی جاتی ہے
١٩۴٧ میں انہوں نے انگریزوں سے آزادی حاصل کر لی لیکن یہ تو بتاو تمہارا قانون کس کا چلتا ہے؟ 

کیا بڑیشن لا اور انڈین لا تمہارے ہی ملک کا قانون نہیں؟ 


ہمارے ملک پہ اب بھی انگریزوں کی کتابیں نسلوں۔ کو پڑھائی جا رہی ہے جو اس بات کا صاف جواب ہے کہ آزادی کے بعد بھی ہم انہی کے غلام ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"!
آزادی صرف پروگرام منقعد کر کے نہیں بلکے نسل کو آنے والے وقت کے لیے بھی تیار کرنا چاہیے ان میں اقبال کے جوش و الولہ شعروں سے قوم کا جگانا ہے
بچہ بچہ کو بتانا ہے آزادی اییسے ملی تو ہم یہ سب کر سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔


اور کشمیر کے وہ بچے جو روز اپنی کھڑکی سے کسی رحم دل انسان کا انتظار کرتے ہیں جو انکو اس ظلم سے نکالے ان انتظار کرتی آنکھوں کی امید نہ ٹوٹنے کے لیے ہمیں بچہ بچہ میں جوش پیدا کرنا ہو گا کشمیر جو آج بھء دشمن کے ظلم میں ہے ہمیں لفظی باتوں سے نہیں کچھ کر کے دیکھانا ہو گا ان بہن بھائیوں کو ان کشمیریوں کو جو پاکستانیوں کی راہ تک رہے ہیں جو انہیں اس ظلم سے آزاد کروائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزادی اور جہوریت کا جو خواب دیکھا تھا وہ کاشوں کے بعد سچ ہوا جسکو دنیا کے نقشے پہ ابھرتا دیکھا گیا
بلاشبہ ہمیں چاہیے کہ مل کر آگے بڑھ کر اس یکجہتی کا مظاہرہ کریں اس موقع پہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارا ملک آج بھی بہت سے مسائل۔ کا۔ شکار ہے 
سائنس اور ٹیکنالوجی حرفت نقل حمل اور دیگر شعبوں نے ملک میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن ہمارے سامنے عدم و مساوات بے روزگاری ناخواندگی  وغیرہ کا عفریت کھڑا ہے


ہمیں مل کر ان سب چیزوں کا سامنا کرنا ہے اور کسی کے آگے نہیں جھکنا سوائے اللہ کی زات کے۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں ہر قدم صلح مشورہ سے کرنا ہے اور کشمیر کو ظلم و ستم سے باہر نکالنے کے لیے سوچیں مرکوز کرنی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*!

امید اور اللہ سے دعا کے ہماری طرح جموں کشمیر کے لوگ آزادی کا چشن منائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انشاللہ وہ دن بھی آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
**آزادی مبارک
پاکستان زندہ باد۔۔۔۔۔
کشمیر بنے گا پاکستان انشاللہ


نعرہ تکبیر اللہ اکبر۔۔۔۔۔۔۔۔**






LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...